عمرعبداللہ نے پھرکہا،کشیدہ حالات کیلئے پاکستان نہیں ،حکومت ذمہ دار
نئی دہلی، 20اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جموں کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں اپوزیشن لیڈارن نے آج صدر پرنب مکھرجی سے ملاقات کی اور ان سے گزارش کی کہ وہ مرکزی حکومت سے کشمیر کے موجودہ بحران کا انتظامی کی جگہ سیاسی حل ڈھونڈنے کے لیے کہیں۔20اپوزیشن لیڈران کی قیادت کر رہے عمر نے صدر سے ایک گھنٹے کی ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے کہا کہ مرکزی حکومت یہ ماننے میں ناکام رہی کہ کشمیر میں مسئلہ سیاسی نوعیت کا ہے، کی وجہ سے پہلے ہی ہنگامہ خیز صورت حال اور خراب ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے صدر سے مرکزی حکومت سے یہ کہنے کا زور دیا کہ وہ ریاست میں سیاسی مسئلے کو حل کرنے کے لئے آگے کوئی اور تاخیر کئے بغیر تمام فریقین کو شامل کرکے سیاسی مذاکرات کا ٹھوس اور مفید عمل شروع کرے۔عمر نے کہا کہ صورت حال سے سیاسی نقطہ نظر سے نمٹنے سے مرکز کا مسلسل انکار مایوس کن ہے اور اس سے ریاست میں امن اور استحکام کے لئے طویل مدتی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔سابق وزیر اعلی کے ساتھ ریاستی کانگریس کمیٹی کے سربراہ کے جی اے میر کی قیادت میں کانگریس ممبران اسمبلی، سی پی ایم رکن اسمبلی ایم وائی تارگامی اور آزاد ممبر اسمبلی حاکم یاسین بھی تھے۔عمر نے کہا کہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ کب جگیں گے کیونکہ صورت حال سنگین ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست اور مرکزی حکومت پٹرول اور دیگر ضروری اشیاء کی فروخت روکنے جیسے انتظامی اقدامات کا استعمال کرکے تحریک کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ صورتحال کو معمول بنانے کے لئے جو اقدامات مرکز اور ریاستی حکومت کو اٹھانے چاہئے، وہ قدم اپوزیشن پارٹیاں اٹھا رہی ہیں۔عمر نے کہا کہ یہ اپوزیشن پارٹی تھی جنہوں نے پارلیمنٹ میں بحث کے لئے حکومت پر دباؤ بنایا اور یہ ایک بار پھر اپوزیشن جماعتیں ہیں جو ریاستی حکومت پر کوئی سیاسی حل ڈھونڈنے کے لئے دباؤ بنا رہے ہیں۔انہوں نے آگاہ کیا کہ مجموعی طور پر اور مسلسل سیاسی اقدامات کے ذریعے ریاست کے لوگوں سے مذاکرات کرنے میں تاخیر جاری رہنے سے وادی میں الگ تھلگ ہونے کا احساس اور بڑھے گا اور مستقبل کی نسل پر غیر یقینی صورتحال کے بادل چھائیں گے۔عمر نے کہا کہ وفد نے صدر سے درخواست کیا کہ وہ وادی میں شہریوں پر مہلک طاقت کا استعمال روکنے کے لئے ریاست اور مرکز پر اپنے اثر کا استعمال کریں۔